96730161 841031e8 215e 488f 8c8d C34bf3d79ea1

طیاروں میں وائی فائی کی سہولت کے لیے مصنوعی سیارہ خلا میں

طیاروں میں وائی فائی کی سہولت کے لیے مصنوعی سیارہ خلا میں

فرنچ گیانا سے ایک اہم مصنوعی سیارے کے خلا میں بھیجے جانے کے بعد اب ہوائی جہازوں میں وائی فائی کی سہولیات فراہم کرنا مزید آسان ہو گیا ہے۔

96730161 841031e8 215e 488f 8c8d C34bf3d79ea1

یہ سیٹیلائٹ بدھ کی رات لانچ کی گئی جس کے بعد ہوائی جہازوں پر سفر کرنے والے مسافر جلد ہی اس مصنوعی سیارے یا پھر زمین پر لگے سیل ٹاورز کی مدد سے انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔

یورپی ایوی ایشن نیٹ ورک کے پیچھے کام کرنے والی کمپنی کا نام انمارسیٹ ہے جو کہ برطانیہ کی سب سے بڑے سیٹیلایٹ آپریٹر ہے۔

وہ جرمنی کی ڈچ ٹیلی کام کے ساتھ مل کر یہ نظام بنا رہی ہے۔

دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان سروسز کا آغاز سال کے آخر تک کر دیا جائے گا۔

لفتھانزا اور اے آئی جی گروپ کی فضائی کمپنیاں(ائیر لنگس، برٹش ائیر ویز اورویلنگ) وہ ایئرلائنز ہوں گی جن کے طیاروں میں ابتدائی طور پر ان سہولیات کے استعمال کے لیے ضروری آلات نصب کیے جائیں گے۔

وائی فائی سیٹیلائٹتصویر کے کاپی رائٹINMARSAT

اس مقصد کے لیے طیاروں کے چھت پر ایک اینٹینا لگایا جائے گا جو سیارے کے ساتھ رابطے کے کام آئے گا۔ اس کے بعد ایک اور ٹرمینل طیارے کے عین بیچ میں لگایا جائے گا جو کہ ابتدائی طور پر مہیا کی جانے والے 300 فور جی ایل ٹی ای کے ساتھ جوڑ دے گا۔

طیارے میں سوار مسافر اگر کوئی ویب سائٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں یا پھر کوئی ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں صرف اس ہاٹ سپاٹ سے منسلک ہونا ہو گا۔

یورپی ایوی ایشن نیٹ ورک کافی عرصے سے اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یورپی کمیشن نے 2009 میں ابتدائی طور پر دو لائسنس جاری کیے تھے، اور امید کی جا رہی تھی کہ گذشتہ سال دسمبر تک یہ منصوبہ مکمل ہو کر کام شروع کر دے گا۔

وائی فائی سیٹیلائٹتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

تاہم انمارسیٹ اور لائسنس حاصل کرنے والی دوسری کمپنی نے اپنا بزنس کیس انتہائی سست روی سے بنایا۔

عام طور پر طیاروں میں وائی فائی کا تجربہ کچھ زیادہ بہتر نہیں رہا ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے بدلنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے اس بارے میں خیالات بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔

انمارسیٹ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ناروے اور سوئٹزر لینڈ سمیت تمام یورپی ممالک کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت ہے، لیکن اس کمپنی نے بتایا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں زمینی ٹاور نصب کرنے کے لیے تاحال لائسنس ملنے کا انتظار ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *